عزاداری کے آداب

مجتبی گروسی -صور اسرافیل:عزاداری کے آداب۱- سیاہ پوشی :
فقہ کے مطابق سیاہ لباس پہننا مکروہ ہے لیکن امام حسین اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی عزاداری میں اس لباس کو مستثنی قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ اقدام حزن و اندوہ اور غم و الم کی نشانی ہے اور شعائر اور عظیم کارناموں کی علامت ہے۔
2- تعزیت گوئی:
اصولی طور پر کسی پر وارد ہونے والی مصیبت کے وقت تعزیت کہنا اسلام میں مستحب ہے۔
پبغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ہرشخص مصیب زدہ انسان کو تعزیت کہہ دے تو اس کا اجر و ثواب اس مصیبت زدہ انسان کے برابر ہوگا۔ (سفینةالبحار، ج2، ص188)
* یہ سنت شیعیان اہل بیت (ع) میں رائج ہے جیسے: "عَظَّمَ اللهُ اُجُورَکُم" کہہ کر ایک دوسرے کو تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
* امام باقر (علیہ السلام ) نے فرمایا: جب شیعہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی مصیبت میں یہ جملہ دہراتے ہیں: "اَعظَمَ اللهُ اُجُورَنا بمُصابنا بالحُسَین (علیه السلام ) وَ جَعَلَنا وَ اِیاكُم مِنَ الطالبینَ بثاره مع وَلیهِ الاِمام المَهدی مِن الِ مُحَمَدٍ علیهمُ السَلامُ"۔
خداوند متعال امام حسین (ع) کی سوگواری اور عزاداری کی برکت سے ہمارے اجر میں اضافہ فرمائے اور ہم اور آپ کو امام مہدی آل محمد (علیہم السلام) کے ہمراہ امام حسین (ع) کے خونخواہوں میں سے قرار دے۔ (مستدرک الوسایل،ج2،ص216)
3- عاشورا کے دن کام کاج بند:
امام صادق (علیہ السلام ) نے فرمایا: جو شخص عاشورا کے روز کام کاج کو تعطیل کردے یعنی کام اور کمائی کے لئے اقدام نہ کرے اور بنی امیہ کی ناک رگڑنے کے لئے ـ جو عاشورا کو متبرک سمجھتے تھے ـ اگر کوئی اپنی روزانہ معیشت کے لئے بھی کوشش نہ کرے خداوند متعال اس کے دنیاوی اور اخروی حوائج برآوردہ فرمائے گا اور روز عاشور جس کی مصیبت و الم و عزا کا دن ہوگا قیامت کے روز ـ جو سب کے لئے ہول و ہراس کا دن ہے ـ اس کے لئے سرور و شادمانی کا دن ہوگا۔
( امالی شیخ صدوق ، ص129)
4- زیارت اور زیارت خوانی:
علقمة بن حضرمی نے حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ: یابن رسول اللہ (ص)! مجھے ایسی دعا تعلیم فرما کہ میں اس روز دور اور نزدیک سے اور اپنی گھر سے پڑھ لیا کروں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: اے علقمہ! جب بھی دعا پڑھنا چاہیں تو اٹھ کر دو رکعت نماز بجا لائیں اور اس کے بعد زیارت عاشورا پڑھ لیں۔ پس اگر زیارت پڑھ لیں تو گویا آپ نے ان کلمات و جملات سے دعا کی ہے جو ملائکہ امام حسین علیہ السلام کے زائر کے لئے دعا کرتے ہوئے بروئے کار لاتے ہیں 100 ہزار ہزار (سو ملین یا دس کروڑ) درجات آپ کے لئے ثبت فرمائے گا اور آپ اس شخص کی مانند ہیں جو امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہادت پاچکا ہو تاکہ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب و انصار کے درجات میں شریک ہوجائیں اور آپ صرف اور صرف ان شہیدوں کے زمرے میں قرار پائیں اور ان ہی شہیدوں کے عنوان سے پہچانے جائیں جو امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہوئے ہیں اور آپ کے لئے ہر نبی اور ہر رسول کی زیارت کا ثواب لکھا جائے گا اور ان تمام لوگوں کا ثواب آپ کے لئے لکھا جائے گا جس نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے آخر تک آپ (ع) کی زیارت کی ہے۔
(مصباح المتهجد ، ص714)
 ([اگر ممکن ہو تو زیارت عاشورا معروفہ ـ 100 لعن اور 100 سلام ـ کے ہمراہ پڑھ لیں اور اگر آپ کے پاس فرصت نہیں ہے تو زیارت عاشورا غیر معروفہ پڑھ لیں جو اجر و ثواب میں زیارت عاشورا معروفہ کے برابر ہے۔ زیارت عاشورا معروفہ اور غیر معروفہ کتاب مفاتیح الجنان میں موجود ہیں۔)]
5 ـ گریه و بکاء عزاداری کا افضل ترین عمل:
قال رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم لابنته السیدة فاطمه سلام الله علیها: يا فاطمة إن نساء امتي يبكون على نساء أهل بيتي، ورجالهم يبكون على رجال أهل بيتي، ويجددون العزاء جيلا بعد جيل، في كل سنة فإذا كان القيامة تشفعين أنت للنساء وأنا أشفع للرجال وكل من بكى منهم على مصاب الحسين أخذنا بيده وأدخلناه الجنة؛ يا فاطمة ! كل عين باكية يوم القيامة، إلا عين بكت على مصاب الحسين (ع).
(بحارالانوار ـ علامه محمد باقر مجلسی ج 44 ص 293).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: بیٹی فاطمہ (س)! بے شک میری امت کی خواتین میرے خاندان کی خواتین کے مصائب پر روتی ہیں اور ان کے مرد میرے خاندان کے مردوں کے مصائب کے لئے روتے ہیں اور نسل در نسل ہر برس ہماری عزاداری کی تجدید کرتے ہیں اور جب قیامت ہوگی تو آپ (اہل بیت کی خواتین کے مصائب پر گریہ و بکاء کرنے والے) خواتین کی شفاعت کریں گی اور میں (اہل بیت کے مردوں پر گذرنے والے مصائب پر گریہ و بکاء کرنے والے) مردوں کی شفاعت کرونگا اور ان میں سے جس نے بھی امام حسین علیہ السلام کے مصائب کے لئے گریہ و بکاء کیا ہوگا ہم اس کا ہاتھ پکڑلیں گے اور اس کو جنت میں داخل کریں گے۔ یا فاطمہ (س)! روز قیامت تمام آنکھیں رو رہی ہونگی سوائے ان آنکھوں کے جو امام حسین (ع) کے مصائب کے لئے اشکبار ہوئی ہیں۔
تباکی اور رونا:
حدیث قدسی میں مذکور ہے کہ خداوند متعال نے حضرت موسی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: اے موسی! جو بھی روز عاشورا میرے حبیب مصطفی (ص) کے فرزند کے لئے گریہ کرے یا رونے کی صورت بنائے اور سبط مصطفی (ص) کی مصیبت پر تعزیت کہے؛ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں ہوگا۔
(مستدرک سفینة البحار، ج7، ص235)

6- عزاداری کی مجالس بپا کرنا:
امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: آپ کی طرف سے بپاکی ہوئی مجالس کو میں دوست رکھتا ہوں اور ان سے محبت کرتا ہوں۔ اپنی مجالس میں ہمارے امر کو زندہ رکھو۔ خدا رحمت نازل فرمائے اس پر جو ہمارے امر کا احیاء کرے۔ (وسایل الشیعه، ج10، ص235)۔
7 – ظہر عاشورا نماز جماعت:
سید الشہداء علیہ السلام اور آپ (ع) کے با وفا اصحاب سب کے سب نماز کی راہ میں شہید ہوئے۔ اسی بنا پر ہم امام حسین علیہ السلام کی "زیارت مطلقہ" میں امام (ع) کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
اشهد انک قد اقمت الصلاة و اتیت الزکاة و امرت بالمعروف و نهیت عن المنکر۔
( 1 تا 7 – سوگنامه عاشورا ، ص 80- 67)
"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکاة ادا کی اور بھلائیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع کیا۔
لذتیں ترک کرنا:
8 ترکِ لذت:

ضروری ہے کہ زندگی کی لذتیں ـ جو کھانے، پینے، نیز سونے اور بولنے ـ سے حاصل ہوتی ہیں ترک کی جائیں۔ (مگر یہ کہ ان کی ضرورت ہو)؛ نیز دینی برادران سے ملاقات تک ترک کی جائے اور اس روز کو گریہ و بکاء اور غم و اندوہ کا روز قرار دیا جائے اور [عزاداران] اس شخص کی طرح ہوں جو اپنے والد یا بھائی کھو گیا ہے۔
* امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: اس روز (عاشورا کو) لذت بخش امور سے اجتناب کیا جائے اور سوگواری کے آداب و مراسمات بجا لائے جائیں اور سورج کے زوال تک کھانے پینے سے پرہیز کیا جائے اور پھر اسی غذا میں سے کھایا جائے جو سوگوار افراد کھایا کرتے ہیں۔
(میزان الحکمه ، ج8 ، ص3783)
[ایک عالم دین نے فرمایا: سات محرم الحرام سے امام حسین علیہ السلام پر پانی بند کیا گیا؛ روز عاشورا تک آپ کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ پانی پینے سے پرہیز کریں؛ بے شک دوسری حلال مشروبات سے استفادہ کریں لیکن آقا و سید و سرور اور آپ (ع) کے خاندان و اصحاب احترام میں پانی پینے سے اجتناب کریں]۔
9- اخلاص کو بطور خاص یاد رکھیں:
ہمیں عزاداری کو عادت اور رسم کی طور عزاداری نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس عمل کو خالص نیت اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے انجام دینا چاہئے اور اپنے خلوص میں بھی ہمیں صادق و راست باز ہونا چاہئے۔ کیونکہ حتی ایک چھوٹا سا عمل بھی اگر خلوص نیت کے ساتھ انجام پائے ان کثیر اعمال سے کہیں زیادہ بہتر ہے جن میں خلوص اور صداقت کا لحاظ نہ رکھا گیا ہو خواہ وہ اعمال کئی ہزار گنا زیادہ کیوں نہ ہوں؛ چنانچہ یہ بات حضرت آدم (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام) اور شیطان رجیم کی عبادات سے بخوبی سمجھ میں آتی ہے؛ کیونکہ شیطان کی کئی ہزار سالہ غیر مخلصانہ عبادت اسے دوزخ کی آگ سے نجات نہیں دے سکی۔ جبکہ حضرت آدم (ع) کی عبادت شیطان کی نسبت بہت کم تھی مگر چونکہ ان عبادات میں اخلاص کا عنصر شامل تھا خداوند متعال نے ابوالبشر (ع) کا ترک اولی بخش دیا اور آپ (ع) کو نبوت عطا فرمائی۔
اعمال کی انجام دہی میں بھی خیال رہے کہ کہیں ریاء اور لوگوں کی تعریف و تمجید کی خواہش و تمنا ہماری نیت میں رسوخ نہ کرلے۔
10. روز عاشورا توبہ و استغفار کا دن

امام حسین علیه السلام اور نماز
ہم سب جانتے ہیں کہ نو محرم الحرام کو محاصرہ شدید ہوا اور لشکر یزید نے حملے کا منصوبہ بنایا تو امام حسین علیہ السلام نے بھائی عباس علیہ السلام سے فرمایا: یزیدی لشکر کے پاس جائیں اور اگر ممکن ہو تو ان سے آج کی رات مہلت لیں اور جنگ کو ایک کل تک ملتوی کرائیں تا کہ ہم آج کی رات نماز، استغفار اور مناجات اور اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز میں گذاریں؛ خدا جانتا ہے کہ میں نماز، تلاوت قرآن اور دعا و استغفار کو کس حد تک دوست رکھتا ہوں۔
ضحاک بن عبداللہ سے روایت ہے کہ شب عاشورا امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کے انصار و افراد خاندان نے نماز و استغفار اور دعا میں گذار دی۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد ہر شب ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ روز عاشورا امام حسین علیہ السلام نے نماز ظہر و عصر کا خاص طور پر اہتمام کیا اور یزیدی دشمن کے تیروں کی بوچھاڑ مین بھی نماز عشق کی داستان رقم فرمائی۔
چنانچہ امام علیہ السلام قطعی طور پر اپنے پیروکاروں سے بھی توبہ و استغفار اور دعا و عبادت کی توقع رکھتے ہیں چنانچہ حالت عزاداری میں بھی، نماز کی حالت مین بھی اور تعزیت و تسلیت کہنے اور مجالس کے انعقاد کے ضمن میں بھی استغفار اور راز و نیاز کا عنصر شامل ہونے کی ضرورت ہے۔

11. روز عاشورا تسلیت و تعزیت کا دن
 روز عاشورا "زیارت تسلیت" پڑھ لینی چاہئے اور روز عاشور توسل کرکے اصلاح احوال، عزاداری و عبادات کی قبولیت اور اپنی کوتاہیوں اور کم عملیوں یا گناہوں سے مغفرت طلب کرنی چاہئے۔
(8 تا10 – ترجمه المراقبات ، ص53 – 47)
12۔ عزاداری پیغام زینب (س)
ہم جانتے ہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا پہلی عزادار ہیں جنہوں نے کربلا میں امام (ع) کے جسم مبارک پر آکر فرمایا: اے میرے جد یا رسول اللہ (ص)! یہ آپ کے حسین ہیں جو خون میں لت پت ریت اور مٹی میں پڑے ہوئے ہیں جبکہ ان کے اعضاء قطع کردیئے گئے ہیں؛ یا اللہ ہماری یہ قربانی اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ یوں عزاداری کی تہذیب کی بنیاد پڑی اور حضرت زینب سلام اللہ نے بنی امیہ کی ایک عظیم سازش یہیں ناکام بنادی جو عاشورا کا پیغام کہیں بھی نہیں پہنچنے دینا چاہتے تھے۔ سیدہ نے یہ سلسلہ شام تک ـ قیدی ہوتے ہوئے بھی جاری رکھا ـ اور عزاداری کو پیغام رسانی کا بہترین اور مؤثر ترین ذریعہ ثابت کرکے دکھایا چنانچہ ہمیں بھی عاشور کے روز اور عزاداری کے دوسرے ایام میں اس خاص بات کا خیال رکھنا چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ ہر مجلس عزادار کی کندھے پر نئی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے اور اگر ہم کسی مجلس میں شرکت کریں اور عزاداری کرکے اٹھیں اور ہمارے دلوں میں کسی نئی ذمہ داری کا احساس نہ ہو تو ہم نے وقت ضائع کیا ہے کیونکہ عزاداری احیائے دین کا وسیلہ ہے جیسا کہ انقلاب عاشورا اور تحریک حسینی اور واقعہ کربلا دین اسلام کے احیاء کا وسیلہ ٹہرا۔

مختار با شمر ابن ذی‌الجوشن چه کرد؟

مجتبی گروسی -صور اسرافیل:شیـخ طوسى(ره) مى‌نویسد: «شمر را دستگیر کردند و نزد مختار آوردند. مختار دستور داد گـردن او را زدند و جسدش را در دیگ روغن جوشیده افکندند و یکى از یاران مختار با پاى خود سر شمر را لگد مى‌کرد.»

براى شمربن ذى الجوشن اسم‏هاى دیگرى چون اوس یا شرحبیل نیز ذکر شده است. او را ذى الجوشن، صاحب زره و جوشن مى‏گفتند زیرا سینه او برآمده بود و همانند سپرى بسته شده نشان مى‏داد. او نخست از یاران على علیه‏السلام در جنگ صفین و از فرماندهان شجاع و نامدار کوفه بود که در کنار حسن (ع) و حسین (ع) در رکاب امام علیهم‏السلام حاضر بوده است اما سرشت ناپاک او به خاطر عمل زشت مادرش بر محیط و آداب الهى و اجتماعى چیره شد و سرانجام در لشکر عبیداللّه بن زیاد قرار گرفت.

روزى مادر شمر که زن بزچرانى بود و در بیابان به کار خود مشغول بود، از چوپانى که از کنار او مى‏گذشت، تقاضاى آب کرد تا با آن رفع عطش کند. چوپان تقاضاى شیطانى خود را شرط دادن آب قرار داد و او نیز پذیرفت و از این طریق، نطفه شمر منعقد شد از این رو امام حسین علیه‏السلام در روز عاشورا خطاب به او فرمود: «یابن راعیة المِعْزى»؛ اى پسر زن بزچران!

این فرد جنایتکار شماره یک کربلا، توانست از چنگ مختار بگریزد اما مختار دسـتـور داد کـه او را هـر کجا رفته اسـت، پـیـدا کـنـنـد و بـه سـزاى اعمال ننگینش برسانند. شمر در ماجراى شورش کوفه بر ضدّ مختار از عاملان اصلى بود.

به گزارش خبرآنلاین، در کتاب تاریخ طبری جلد ششم صفحه 53 آمده است: «مـسـلم ضـبـائى که هم قبیله شمر بود، مى‌گوید: «ما فرار کردیم و خود را به محلى در مسیر کـوفـه و بصره به نام ساتیدما رساندیم و در نزدیکى آن محل، دهکده کوچکى به نام کلتانیّه در حوالى سواحل فرات قرار داشت. ما در کنار تپّه‌اى مخفى شدیم که توسط یک روستایی جای ما لو رفت. شب هنگام بود که ماموران مختار ما را محاصره کردند. شمر را دیدم که جامه‌اى خوش‌بافت به تن داشت و بدنش پیس (بیماری برص) بود. ما حتى فرصت سوارشدن بر اسب را نیافتیم. درگیرى شدیدى رخ داد. ساعتى بعد صداى الله اکبر شنیدم و کسى فریاد زد خداوند، خبیثى را کشت».

در جلد ششم تاریخ طبری صفحه 338 نیز به نقل از شیـخ طوسى(ره) آمده است: «شمر را دستگیر کردند و نزد مختار آوردند. مختار دستور داد گـردن او را زدند و جسدش را در دیگ روغن جوشیده افکندند و یکى از یاران مختار با پاى خود سر شمر را لگد مى‌کرد.»

همچنین در همین کتاب و در همان جلد در صفحه 374 امده است: «عبدالرحمن بن عبد مى‌گوید: من شمر را به هلاکت رساندم. مختار تا نگاهش به سر بریده شمر افتاد، سجده شکر به جاى آورد و دستـور داد آن سـر را بـالاى نـیـزه کـنـنـد و مقابل مسجد جامع شهر در معرض دید مردم قرار دهند تا موجب عبرت همگان باشد».

خطرات یزید ومعاویه برای اسلام از دیدگاه امام خمینی(ره)

مجتبی گروسی -صور اسرافیل:خطری كه معاویه و یزید برای اسلام داشتند این نبود كه غصب خلافت كردند بلكه خطری كه این ها داشتند این بود كه می خواستند اسلام را بصورت سلطنت در بیاورند.
 
قیام برای خدا شكست ندارد هر گاه دیدید كه دین خدا در معرض خطر است برای خدا قیام كنید. امیرالمؤمنین می دید كه دین خدا در خطر است و معاویه آن را وارونه می كند برای خدا قیام كرد امام حسین هم همینطور برای خدا قیام كرد این مطلبی است كه برای یك زمان خاصی نیست موعظه خدا همیشگی است هر وقت دیدید كه بر ضد اسلام حكومت انسانی اسلامی اقدام كردند و خواستند مسائل اسلام را به اسم اسلام از بین ببرند باید قیام كنید از اینكه شاید نتوانید یا شكست بخورید نترسید.
 
وقتی ما و شما دیدیم كه یك حكومت، اسلام را وارونه می كند و به اسم عدالت اسلامی، ظلم را ترویج می دهد و اسلام را این چنین معرفی می كند باید قیام كنیم. یك وقت كسی می گوید من كاری به اسلام ندارم در این مورد تكلیف انسان سبك تر است اما یك وقت كسی قران چاپ می كند و زیارت حضرت رضا (ع) می رود، نماز می خواند، حرفهایش هم این است كه ما عدالت انسانی را اجراء می كنیم، ما می خواهیم ترویج اسلام بكنیم، اما درست اسلام را وارونه جلوه می دهند و عمل می كنند، اینجا است كه اسلام در خطر است و تكلیف مشكل.
 
وقتی احكام اسلام را در خطر دیدید باید برای خدا قیام كنید. گاهی تقیه حرام است آن وقتی كه انسان دید دین خدا در خطر است نمی تواند تقیه كند. در ان وقت باید به هر صورتی كه می شود قیام كرد. اكنون ما باید محتوای اسلام را واقعیت اسلام را در ایران پیاده كنیم ما همه مان به جمهوری اسلامی رای دادیم ولی با رای تنها اسلام نمی آید، رسمیت مملكت ایران اكنون جمهوری اسلامی است، اما محتوای اسلام باید در آن جمهوری اسلامی تحقق پیدا كند فقط ما بگوئیم جمهوری اسلامی و همه جهاتش غیر اسلامی باشد كه اسلام نمی شود. محمد رضا خان هم می گفت اسلام، می گفت اسلام را قبول دارم. 

اگر یك كسی در حكومت دخالت می كرد و می گفت باید این حكومت صحیح باشد آنرا ( ضد امنیت ملی) ننگ می دانستند و این تبلیغات شاطین بود كه می خواستند صورت اسلام را نگه دارند و ما را مشغول به همین صورتها بكنند و محتوی در كار نباشد تا كارهایشان را انجام بدهند. محتوای اسلام كه مهمش قیام و نهضت برای خدا است. 

قیام لله، جلوگیری از مفاسد از ریشه كن كردن ریشه های فاسدی كه الان بین مردم منتشر هستند. آن چیزی كه ما می خواهیم الان نشده است، به جمهوری اسلامی رای دادیم و آن رژیم رفت و یك رژیم دیگری آمد ولی باید همه چیز اسلامی بشود. من دیدم یك مملكتی كه زاغه نشینهائی آن چنانی داشته باشند و مردم بفكر اینها نباشند، این مملكت مملكت اسلامی نیست. صورتش اسلامی است اما محتوی ندارد.
حالا بخواهند بجان مردم بیفتند و تلافی كنند، اگر اینطور باشد آن روحیه اسلامی از دست رفته است. نگوئید كه حالا گذشت هر كس برود سركار خودش هر روز می آیند و به ما شكایت می كنند كه چقدر گرانفروشی شده، چقدر قاچاق شده، هروئین فروشی چقدر، تریاك چقدر، اگر آن تحول روحی كه در برهها ای از زمان بود برگردد خوف این هست كه جهات دیگر هم برگردد. 

والسلام علیكم و رحمه الله و بركاته
روح الله الموسوی خمینی
قم – فیضیه 58/3/9

الوهابية تثبت اقتداء السيد السيستاني بخلق الائمة (ع)

صور اسرافیل:هنالك صفات يتصف بها الامامية لا يفصح عنها الامامي قولا بل فعلا فلو اراد شخص ما اثبات كرمه فانه يكرم الفقير واذا اراد ان يثبت شجاعته فانه يقف بوجه اعدائه وقفة بطل ولكن لو اراد ان يثبت حلمه وعفوه عن شاتمه فكيف ذلك ؟ يكون ذلك من خلال تعرض شاتم اما خبيث او جاهل للطرف الذي يتصف بالحلم وعندها سيتضح حقيقة حلم الحليم في ردة فعلهمن صفات الائمة الاطهار عليهم السلام الذين نتمسك بهم وبخلقهم هو الحلم وهذه روايتين تخص المطلب ....

ادامه نوشته

Conmemoración por los cuarenta días del Martirio del ImanHussein (p)

soreisrafil:Conmemoramos el Aniversario de los cuarenta días del Movimiento Revolucionario del Imam Hussein (la paz sea con el), un movimiento que...

ادامه نوشته

نظر برخی از علما درباره مسائل وهن عزاداری و قمه‏زنی

صور اسرافیل:در مراسم‌ عزاداري‌ و سوگواري‌ كارهايي‌ از قبيل‌ قمه‌ زدن‌، قفل‌ بستن‌ به‌ بدن‌، خراشيدن‌ و خون‌ آلوده‌ كردن‌ سر و صورت‌، سينه‌ خيز براي‌ زيارت‌ رفتن‌ و امثال‌ اينها انجام‌ مي‌شود كه‌ قطعاً و قهراً موجب‌ وهن‌ اسلام‌ و تضعيف‌ مذهب‌ است‌. بخصوص‌ كه‌ در.....

ادامه نوشته

در عاشورا چه گذشت؟

صور اسرافیل:دیگر بار جناح چپ لشکر یزید به فرماندهی شمر بر جناح چپ سپاه امام(ع) حمله کرد و یاران امام در برابر آنان مقاومت کردند و آن ها را عقب راندند. سپس از هر طرف به سپاه امام(ع) حمله کردند و جنگ شدت گرفت. یاران سواره امام(ع) با این که اندک بودند، سرسختانه مقاومت کردند و سواران کوفه را از هر سو که حمله می کردند پراکنده می کردند.....

ادامه نوشته

شهادت امام حسین (ع)وخواص وفادارشرا به همه مردم آزاده دنیاتسلیت میگوئیم

ديار آشنا- سفرنامه ای از عراق

صور اسرافیل:سفري متفاوت با تمامي سفرها در پيش بود؛ از قم به كربلا و نجف. گويي مي‌خواستم به زادگاهم بروم يا در آنجا گمشده‌اي داشتم و در پي آن مي‌رفتم. دقيقا نمي‌دانم چرا از لحظه درخواست ويزا تا روزي كه عازم بودم، ذوق و شوقي داشتم كه تا به حال آن را تجربه نكرده بودم...

ادامه نوشته

مثنوي آيت‌الله العظمی وحيد درباره عاشورا

صور اسرافیل:آيت‌الله وحيد خراساني از مراجع تقليد شيعيان در سال 1337 مثنوي بلندي در رثاي سالار شهيدان حضرت اباعبدالله (ع) سروده است كه در پي مي‌آيد...

ادامه نوشته

مشارکت پیروان حضرت یحیی(ع) در مراسم عاشورا

صور اسرافیل:تاریخ ثبت شده در مورد زمان ظهور فرقه صابئه نشان می دهد که حدودا به بیش از دو هزار سال پیش باز می‌گردد و هنوز پیروان این فرقه در استان‌های جنوبی عراق و نیز برخی مناطق شهر اهواز در جنوب کشورمان س ت دارند....

ادامه نوشته

Imam Hussein and Renowned PersonsWhat renowned persons have said about Imam Husain (P.B.U.H)

 

 

Thomas Carlyle

Thomas Carlyle (Scottish historian and essayist): Faces seraph

“The best lesson which we get from the tragedy of Cerebella is that Husain and his companions were rigid

believers in God. They illustrated that the numerical superiority does not count when it comes to the truth and the falsehood. The victory of Husain, despite his minority, marvels me!”


Edward Gibbon

Edward Gibbon (English historian and member of parliament):

“In a distant age and climate, the tragic scene of the death of Hosein will awaken the

sympathy of the coldest reader.” (The Decline and Fall of the Roman Empire, London,

1911, volume 5, p. 391-392)


Mahatma Gandhi

Mahatma Gandhi (Indian political and spiritual leader):

“I learnt from Hussein how to achieve victory while being oppressed.”


Charles Dickens

Charles Dickens (English novelist):

“If Husain had fought to quench his worldly desires…then I do not understand why his sister, wife, and children accompanied him. It stands to reason therefore, that he sacrificed purely for Islam.”


Edward G. Brown (Professor at the University of Cambridge):

“…a reminder of that blood-stained field of Karbala, where the grandson of the Apostle of God fell, at length, tortured by thirst, and surround by the bodies of his murdered kinsmen, has been at anytime since then, sufficient to evoke, even in the most lukewarm and the heedless, the deepest emotion, the most frantic grief, and an exaltation of spirit before which pain, danger, and death shrink to unconsidered trifles.”

(A Literary History of Persia, London, 1919, p.227)


Sir William Muir (Scottish orientalist):

“The tragedy of Karbala decided not only the fate of the Caliphate, but also of Mohammadan kingdoms long after the Caliphate had waned and disappeared.”

(Annals of the Early Caliphate, London, 1883, p.441-442)


Ignaz Goldziher

Ignaz Goldziher (Hungarian orientalist):

“…Weeping and lamentation overthe evils and persecutions suffered by the ‘Alid family, and mourning for its martyrs: these are things from which loyal supporters of the cause cannot cease. ‘More touching than the tears of the Shi’is’ has even become an Arabic proverb.”

(Introduction to Islamic Theology and Law, Princeton, 1981, p.179)


Dr. K. Sheldrake:

“Of that gallant band, male and female knew that the enemy forces around were implacable, and were not only ready to fight, but to kill. Denied even water for the children, they remained parched under the burning sun and scorching sands, yet not one faltered for a moment. Husain marched with his little company, not to glory, not to power of wealth, but to a supreme sacrifice, and every member bravely faced the greatest odds without flinching.”


Antoine Bara

Antoine Bara (Lebanese writer):

“No battle in the modern and past history of mankind has earned more sympathy and admiration as well as provided more lessons than the martyrdom of Husayn in the battle of Karbala.” (Husayn in Christian Ideology)

 

سنت‌هاي عزاداري شيعيان پاكستان در محرم

صور اسرافیل:در ماه‌ سوگواري سيد و سالار شهيدان، شيعيان پاكستان با رسم و سنت ديرينه خود به سوگ مي‌نشينند.  با آغاز ماه محرم، شور حسيني، تمامي مناطق اعم از شيعي و حتي غيرشيعي در سراسر جهان را فرا مي گيرد و شيعيان در جاي جاي جهان با آداب و رسوم مخصوص به خود، در سوگ و ماتم شقايق‌هاي كربلا به عزاداري مي پردازند. ...
ادامه نوشته

شرکت هندو ها در عزاداری امام حسین(ع)

صور اسرافیل: مظلوميت امام حسين (ع) و يارانش چنان است كه هندوها و غيرمسلمانان هندي با ديدن سوگواري‌ها و نوحه‌سرايي‌هاي مسلمانان متأثر مي‌‌شوند و با آنان هم‌نوا..
ادامه نوشته

خریدوفروش کالای ایرانی حرام است!

صور اسرافیل: تعدادی از چهره های سرشناس اهل سنت در استان الأنبار عراق که طی چند سال اخیر مقر و مخفیگانه اصلی اعضای شبکه تروریستی القاعده و نیروهای حزب بعث سابق عراق بوده، با صدور فتوایی خرید و فروش و هرگونه معامله کالاها و محصولات ساخت و تولید ایران را از نظر شرعی حرام ..

ادامه نوشته

محدودیت‏های بی‏سابقه امارات برای عزاداری حسینی

صور اسرافیل:  خبر از اخراج یک خطیب و مداح ایرانی از این کشور داده است، خبرهای رسیده نیز حکایت از ایجاد محدودیت‏های گوناگون برای عزاداری حسینی در این کشور دارد.

مقامات اماراتي روز شنبه به «حجت الاسلام عالي» که برای مراسم عزاداري تاسوعا و عاشورا در مسجد امام حسين (ع) دعوت شده بود، چند ساعت فرصت دادند كه دبي را ترك كند و وي مجبور شد بلافاصله پس از برگزاري سخنراني عصر تاسوعا امارات را ترك كند‏.‏

در حالی که گفته می‏شود "دعاي حجت‏الاسلام عالی براي شیعیان يمن" عامل واكنش دولت امارات به حضور وي در اين كشور بوده است‏ اما اقدامات محدودکننده‏ی دیگر ،حاکی از جریانات دیگری است.

از جمله این اقدامات، ایجاد محدودیت برای مساجد و تکایای ایرانی در دبی است، به نحوی که "حسینیه لاری‏های مقیم دبی" که هرسال تا ساعاتی پس از نیمه شب به برگزاری مراسم اقدام می‏کرد امسال فقط تا ساعت 11 شب مجاز به برگزاری عزاداری بود.

دولت امارات در اعطاي ويزا به حجت الاسلام عالي و «طاهري» مداح نيز مشكلاتي را ايجاد كرده بود‏.‏

این در حالی است که شیعیان و ایرانیان از ارکان اصلی اقتصاد امارات متحده عربلی ـ بویژه امیرنشین دبی ـ به شمار می‏روند.

عاشورا در سراسر جهان به روایت تصویر

صور اسرافیل:عاشقان و عزاداران ابا عبدالله حسین(ع) و یاران با وفایش، دیشب در نمازخانه حسینیه سفارت جمهوری اسلامی ایران در دوشنبه همانند شب های گذشته در فضایی آکنده از حزن و اندوه به نوحه خوانی و سینه زنی پرداختند و به یاد شهدای مظلوم کربلا اشک ماتم ریختند....

ادامه نوشته

مژده ای دل که دگر سوم شعبان آمد

صوراسرافیل:
مژده ای دل که دگر سوم شعبان آمد
پیک شادی ز بر حضرت جانان آمد
مژده ای دل که برای دل غمدیده ما

هدهد خوش خبر از نزد سلیمان آمد

خیز ای دل تو بیارای کنون بزم طرب

که دگر موسم اندوه به پایان آمد

مطربا نغمه نو ساز کن و پای بکوب

که به ما مژده وصل شه خوبان آمد

ساقیا باده بده خود بنما سرمستم

زان می‌ای کو به تن خسته ما جان آمد

ظلمت و تیرگی شام الم رفت کنون

روز شادی شد و خورشید فروزان آمد

غنچه‌ی دهر در این روز بخندید دگر

که به بستان علی نوگل خندان آمد

عطر پاشید به بستان که همه عطرآگین

سمن و یاسمن و سنبل و ریحان آمد

بلبل از لب به ترنم بگشاید نه عجب

که به گلذار نبی بلبل خوش خوان آمد

گوهری از صدف بحر کرم گشت عیان

که به توصیف رخش لولو مرجان آمد

نور حق جلوه به برج شرف زهرا کرد

بین به این نور که این گونه درخشان آمد

وه چه روزی است مبارک ز قدوم شه دین

موسم مغفرت و رحمت یزدان آمد

روز فرخنده میلاد حسین ابن علی(ع)

مژده‌ی خامُشی آتش نیران آمد

باعث کون و مکان منشاء ایجاد حسین

که وجودش به جهان مفخر انسان آمد

مظهر ذات خدا سبط رسول دو سرا

نور چشمان علی آن شه مردان آمد

حیف و صد حیف که در واقعه کرب و بلا

بر تن خسته او ظلم فراوان آمد

بر سر عهد و وفا در ره معشوق نگر

خود فدا کرد که سالار شهید آن آمد

ای غلامان اگرت بار گنه سنگین شد

غم مخور چونکه حسین شافع عصیان آمد

دعای روز سوم شعبان

 
صور اسرافیل:اَللّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ بِحَقِّ الْمَوْلُودِ فى هذَا الْیَوْمِ الْمَوْعُودِ بِشَهادَتِهِ

خدایا از تو خواهم به حق مولود در این روز آن مولودى كه به او وعده شهادت داده شده بود

 قَبْلَ اْستِهْلالِهِ وَ وِلادَتِهِ بَكَتْهُ السَّماَّءُ وَ مَنْ فیها وَ الاْرْضُ وَ مَنْ

پیش از اینكه بانگش در این دنیا بلند شود و به دنیا آید آسمانها و هر كه در آنها است و زمین و هركه

 عَلَیْها وَ لَمّا یَُطَاْ لابَتَیْها قَتیلِ الْعَبْرَةِ وَ سَیِّدِ الاُْسْرَةِ الْمَمْدُودِ بِالنُّصْرَةِ

بَر آن است برایش گریستند پیش از آنكه قدم در این جهان گذارد كشته اشك و آه و آقاى طائفه بشر آن كس كه در

 یَوْمَ الْكَرَّةِ الْمُعَوَّضِ مِنْ قَتْلِهِ اَنَّ الاْئِمَّةَ مِنْ نَسْلِهِ وَ الشِّفاَّءَ فى

روز رجعت به یارى مدد شده و آنكه پاداش كشته شدنش این بود كه امامان از نسل اویند و درمان در

 تُرْبَتِهِ و الْفَوْزَ مَعَهُ فى اَوْبَتِهِ و الاْوصِیاَّءَ مِنْ عِتْرَتِهِ بَعْدَ قاَّئِمِهِمْ

تربت او است و پیروزى در زمان رجعت با او و اوصیاء از عترت او است پس از حضرت قائم

 وَ غَیْبَتِهِ حَتّى یُدْرِكُوا الاْوْتارَ وَ یَثْاَروُا الثّارَ وَ یُرْضُوا الْجَبّارَ

و پس از دوران غیبتش تا اینكه انتقام گیرند و خونها را باز گیرند و خداى جبار را خوشنود سازند

 وَ یَكُونُوا خَیْرَ اَنْصارٍ صَلَّى اللّهُ عَلَیْهِمْ مَعَ اْختِلافِ اللَّیلِ وَ النَّهارِ

و بهترین یاران دین خدا باشند درود خدا بر ایشان در هر زمان كه رفت و آمد دارد شب و روز

 اَللّهُمَّ فَبِحَقِّهِمْ اِلَیْكَ اَتَوَسَّلُ وَ اَسْئَلُ سُؤ الَ مُقْتَرِفٍ مُعْتَرِفٍ مُسیَّئٍ

خدایا پس به حق ایشان به سوى تو دست نیاز دراز كنم و از تو خواهم خواستن شخص گنه كار اعتراف كننده بدكردار

 اِلى نَفْسِهِ مِمَّا فَرَّطَ فى یَوْمِهِ وَ اَمْسِهِ یَسْئَلُكَ الْعِصْمَةَ اِلى مَحَلِّ

به نفس خویش از كوتاهی‌هایى كه در امروز و دیروزش كرده و اكنون از تو پناه خواهد تا هنگام رفتن در

 رَمْسِهِ اَللّهُمَّ فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ عِتْرَتِهِ وَ احْشُرْنا فى زُمْرَتِهِ

گور خدایا پس درود فرست بر محمد و عترتش و ما را در زمره او محشور گردان

 وَ بَوِّئْنا مَعَهُ دارَ الْكَرامَةِ وَ مَحَلَّ الاِقامَةِ اَللّهُمَّ وَ كَما اَكْرَمْتَنا

و جاى ده ما را با او در خانه كرامت (بهشت) و جایگاه ماندن همیشگى خدایا چنانچه ما را به شناختنش

 بِمَعْرِفَتِهِ فَاَكْرِمْنا بِزُلْفَتِهِ وَ ارْزُقْنا مُرافَقَتَهُ وَسابِقَتَهُ وَ اجْعَلْنا مِمَّنْ

گرامى داشتى هم چنان ما را به نزدیك شدن با او گرامى دار و رفاقت و سابقه داشتن با او را روزى ما گردان و بگردان ما

 یُسَلِّمُ لاِمْرِهِ وَیُكْثِرُ الصَّلوةَ عَلَیْهِ عِنْدَ ذِكْرِهِ وَ عَلى جَمیعِ اَوْصِیاَّئِهِ

را از كسانى كه تسلیم دستور اویند و هنگام بردن نامش بسیار بر او درود فرستند و بر همه اوصیاء

 وَ اَهْلِ اَصْفِیاَّئِهِ الْمَمْدُودین مِنْكَ بِالْعَدَدِ الاِْثْنَىْ عَشَرَ النُّجُومِ الزُّهَرِ

و خاندان برگزیده اش كه یارى شده اند از جانب تو به عدد دوازده، آن ستارگان درخشان

 وَ الْحُجَجِ عَلى جَمیعِ الْبَشَرِ اَللّهُمَّ وَهَبْ لَنا فى هذَا الْیَوْمِ خَیْرَ

و حجتهاى تو بر تمامى افراد بشر خدایا و ببخش به ما در این روز بهترین

 مَوْهِبَةٍ وَاَنْجِحْ لَنا فیهِ كُلَّ طَلِبَةٍ كَما وَهَبْتَ الْحُسَیْنَ لِمُحَمَّدٍ جَدِّهِ

بخششها را و برآور براى ما در این روز هر خواهشى را چنانچه حسین را به محمد جدش بخشیدى

 وَ عاذَ فُطْرُسُ بِمَهْدِهِ فَنَحْنُ عائِذُونَ بِقَبْرِهِ مِنْ بَعْدِهِ نَشْهَدُ تُرْبَتَهُ

و فُطرس به گهواره حسین علیه السلام پناه برد و ما پناهنده به قبر او هستیم پس از شهادت او بالاى تربتش

 وَ ننْتَظِرُ اَوْبَتَهُ آمینَ رَبَّ الْعالَمینَ

آمده و چشم به راه رجعت او هستیم اجابت كن اى پروردگار جهانیان

مفاتیح الجنان، آیت الله شیخ عباس قمی

خاطرات یک پزشک مسیحی از کربلا

صور اسرافیل:دکتر "نویيل فرجو"، یک پزشک مسیحی آمریکایی است که در دهه‌های نود قرن گذشته میلادی چند سالی را به همراه همسر خود در شهر مقدس کربلا، اقامت داشت. وی....

ادامه نوشته

عاشورای حسینی را به همه آزادگان جهان تسلیت میگوئیم

محرم ماه خون وقيام را به همه آزاديخواهان جهان تسليت ميگوئيم